لکھیں اور 40404 پر سینڈ کریں۔ پھر اپنا نام لکھ کر 40404 پر سینڈ کریںFollow         Pak488 میں جا کر Write         Message     اردو ادب کے تمام شعرائے کرام کی شاعری کے ایس ایم ایس اپنے موبائل پر مفت حاصل کرنے کے لئے
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں قتیل شفائی






Darbar e Dil By Umera Ahmed UrduShairi.com

Darbar e Dil By Umera Ahmed UrduShairi.com

دربار دل
مشہورپاکستانیادیب عمیرہ احمد کےقلم سےلکھا گیاناول ہے

ناول مصنفہ کی نظرمیں
دربارِ دل ان چند سوالوں کا جواب دینےکی ایک کوشش ہے جو ہر وقت ہم سب کے ذہنوں کا احاطہ کیےرہتےہیں۔ ایک چھوٹی سی غلطی سےشروع ہونےوالی یہ کہانی دو کرداروں کےلیئے ایک بڑا پچھتاوا بن کر سامنے آتی ہے۔ اور ان کے اس کرب کومحسوس کرنےوالےہم میں سے بہت سےلوگ ہیں جو اپنی تمام زندگی "آخر اس کام میں اللہ کی کیا مصلحت تھی؟" کے Pet Sentence کےساتھ گزارتےہیں (عمیرہ احمد)
کردار
مہر
مراد
مرکزی خیال
دربار دل کا موضوع انسان کیاللہسے مانگی ہوئی دعا ہے۔ اسناول کی بنیادسورۃ بنی اسرائیل کی اس آیت پہ رکھی گئی ہے جس کا مفہوم ہے کہ
انسان اپنے لئے شر کو ایسے مانگتا ہے کہ جیسے بھلائی ہو اور بےشک انسان بڑا جلد بازہے۔
ناول کا مرکزی کردار ایک دین دار، پردہ دار اور احکام الٰہی بجا لانے والی ایک لڑکی ہے جس کا نام مہر تھا۔ مہر نے بچپن میں اپنی امی سے دعا کرنا سیکھا تھا اور اسے اس بات کا غرور تھا کہ اس کی مانگی ہوئی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ مذہب کی ڈور میں گندھی ہوئی اس لڑکی کے نزدیک محبت ایک فضول اور بےکار چیز تھی۔ لیکن قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ اسے نا چاہتے ہوئے بھی مومی (مراد) نام کے ایک لڑکے سے محبت ہوگئی۔ اپنی محبت سے مجبور وہ گھنٹوں اس کے ساتھ فون پہ گفتگو کیا کرتی تھی۔ ایک دن وہ لڑکا اسے رستے سے فون کر رہا تھا اور فون کے دوران ہی اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ مہر چاہنے کے باوجود بھی اس کی مدد کے لئے نا تو جا سکی اور نہ ہی کسی کو فون کرکے اس کے پاس بھیج سکی۔ لیکن وہ یہ نہ جان سکی کہ اس حادثے کے نتیجے میں وہ لڑکا بچ گیا تھا یا مر گیا تھا۔ اس واقعے نے اس کی پوری زندگی ہلا کے رکھ دی۔ پردہ دار مہر نے پردہ کرنا اور اللہ سے دعا مانگنا چھوڑ دیا اور دور جدید کے رنگ ڈھنگ اپنا لئے۔ اس کے والدین نے اس کی شادی کر دی۔ اس کا شوہر ایک ماڈرن انسان تھا جسے شریک حیات سے زیادہ شمع محفل کی ضرورت تھی۔ مہر مجبوری اور ناخوشی کے عالم میں زندگی کے دن گزار رہی تھی کہ ایک دن اپنے شوہر کے دوست کی آمد پہ اسے علم ہوا کہ جس مومی نام کے لڑکے کی محبت میں وہ مبتلا تھی وہ اس کا اپنا شوہر ہی تھا۔ اور یہ بھی کہ اس کے شوہر نے اس کے مذہبی خیالات کی وجہ سے اس کے ساتھ مذاق کیا تھا۔ اور مہر تھی کہ اس ایک مذاق کے پیچھے اس نے اپنی پوری زندگی تباہ کر لی۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش نہیں تھی لیکن وہ وہی شخص تھا جس کے ساتھ کی اس نے اللہ تعالیٰ سے بھرپور دل کے ساتھ دعا کی تھی۔ اللہ نے اس کی دعا پوری کر دی کیونکہ وہ مہر کی تمام دعائیں پوری کرتا تھا لیکن مانگتے وقت مہر کو احساس نہیں تھا کہ اس نے اپنے لئے خیر مانگا ہے یا شر۔ اس نے جوانی کی اندھی محبت میں جلد بازی میں اپنے لئے بھلائی کے دھوکے میں شر مانگ لیا۔ 




Relevent Best Poetry
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں قتیل شفائی

Powered By: eVision Development Solutions Visit: www.evdsp.com