لکھیں اور 40404 پر سینڈ کریں۔ پھر اپنا نام لکھ کر 40404 پر سینڈ کریںFollow         Pak488 میں جا کر Write         Message     اردو ادب کے تمام شعرائے کرام کی شاعری کے ایس ایم ایس اپنے موبائل پر مفت حاصل کرنے کے لئے
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں قتیل شفائی






Woh Hua Na Rahi Woh Chaman Na Raha Wo Gali na Rahi...





وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے
وہ فلک نہ رہا وہ سماں نہ رہا وہ مکاں نہ رہے وہ مکیں نہ رہے

وہ گلوں میں گلوں کی سی بو نہ رہی وہ عزیزوں میں لطف کی خو نہ رہی
وہ حسینوں میں رنگ وفا نہ رہا کہیں اور کی کیا وہ ہمیں نہ رہے

نہ وہ آن رہی نہ امنگ رہی نہ وہ رندی و زہد کی جنگ رہی
سوئے قبلہ نگاہوں کے رخ نہ رہے اور در پہ نقش جبیں نہ رہے

نہ وہ جام رہے نہ وہ مست رہے نہ فدائی عہد الست رہے
وہ طریقۂ کار جہاں نہ رہا وہ مشاغل رونق دیں نہ رہے

ہمیں لاکھ زمانہ لبھائے تو کیا نئے رنگ جو چرخ دکھائے تو کیا
یہ محال ہے اہل وفا کے لیے غم ملت و الفت دیں نہ رہے

ترے کوچۂ زلف میں دل ہے مرا اب اسے میں سمجھتا ہوں دام بلا
یہ عجیب ستم ہے عجیب جفا کہ یہاں نہ رہے تو کہیں نہ رہے

یہ تمہارے ہی دم سے ہے بزم طرب ابھی جاؤ نہ تم نہ کرو یہ غضب
کوئی بیٹھ کے لطف اٹھائے گا کیا کہ جو رونق بزم تمہیں نہ رہے

جو تھیں چشم فلک کی بھی نور نظر وہی جن پہ نثار تھے شمس و قمر
سو اب ایسی مٹی ہیں وہ انجمنیں کہ نشان بھی ان کے کہیں نہ رہے

وہی صورتیں رہ گئیں پیش نظر جو زمانہ کو پھیریں ادھر سے ادھر
مگر ایسے جمال جہاں آرا جو تھے رونق روئے زمیں نہ رہے

غم و رنج میں اکبرؔ اگر ہے گھرا تو سمجھ لے کہ رنج کو بھی ہے فنا
کسی شے کو نہیں ہے جہاں میں بقا وہ زیادہ ملول و حزیں نہ رہے

اکبر الہ آبادی
Relevent Best Poetry
Tehreer Kar Mujhe Do Lafzon ...

Hain Log Wohi Jahan Mein Achey

Dhanak Dhanak Meri Poron Kay...

Mujhe Pukaar Meri Fikar Ke H...

Hoti Hai Terey Naam Sey Wehs...

Yad Rakhna Hamari Turbat ko



جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں قتیل شفائی

Powered By: eVision Development Solutions Visit: www.evdsp.com