لکھیں اور 40404 پر سینڈ کریں۔ پھر اپنا نام لکھ کر 40404 پر سینڈ کریںFollow         Pak488 میں جا کر Write         Message     اردو ادب کے تمام شعرائے کرام کی شاعری کے ایس ایم ایس اپنے موبائل پر مفت حاصل کرنے کے لئے






Ye Raat Bhiyanak Hijar ki Katain Gay Baray Alaam ke Sath





یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم
ٹلنے کی نہیں یہ کالی بلا سمجھے ہوئے تھے شام سے ہم

جب قیس پہاڑ اس سر سے ٹلے عید آئی تب آئی جان میں جان
تا دیر عجب عالم میں رہے ہونٹوں کو ملائے جام سے ہم

تھا موت کا کھٹکا جاں فرسا صد شکر کہ نکلا وہ کانٹا
گر ہو نہ قیامت کا دھڑکا اب تو ہیں بڑے آرام سے ہم

تامنزل جاناں ساتھ رہا کم بخت تصور غیروں کا
شوق اپنے قدم کھینچا ہی کیا پلٹا ہی کیے ہر گام سے ہم

الفت نے انہیں کی حق کی طرف پھیرا مرے دل کو شکر خدا
تعمیر کریں مسجد کوئی کیونکر نہ بتوں کے نام سے ہم

اے ہم نفسو دم لینے دو بھولے ہوئے نغمے یاد آ لیں
آئے ہیں چمن میں اڑ کے ابھی چھوٹے ہیں اسی دم دام سے ہم

باتوں میں گزرتے ہجر کے دن اے کاش کہ دونوں مل جاتے
ہم سے ہے دل ناکام خفا آزردہ دل ناکام سے ہم

یوں ان کے ادب یا خاطر سے ہر بات کو لے لیں اپنے سر
جب دل ہے انہیں کے قابو میں پھر پاک ہیں ہر الزام سے ہم

وہ سمجھے کہ ہم نے مار لیا ہم سمجھے ملیں گے آخر وہ
ملتے ہی نگہ کے دونوں خوش آغاز سے وہ انجام سے ہم

دنیا میں تخلص کوئی نہ تھا کیا نیل کا ٹیکا شادؔ ہی تھا
تم وجہ نہ پوچھو کچھ اس کی چڑھ جاتے ہیں کیوں اس نام سے ہم

شاد عظیم آبادی
Relevent Best Poetry
Dhhondo Gay Agar Mulkon Mulk...

Tamannaon Mein Uljhaya Gaya ...

Na Dil Apna Na Gham Apna Na ...

Ye Raat Bhiyanak Hijar ki Ka...



Powered By: eVision Development Solutions Visit: www.evdsp.com