لکھیں اور 40404 پر سینڈ کریں۔ پھر اپنا نام لکھ کر 40404 پر سینڈ کریںFollow         Pak488 میں جا کر Write         Message     اردو ادب کے تمام شعرائے کرام کی شاعری کے ایس ایم ایس اپنے موبائل پر مفت حاصل کرنے کے لئے






Baba Fareed

Baba Fareed

Introduction

عظیم صوفی بزرگ اورشاعر بابا فرید الدین گنج شکر کا اصل نام مسعو د اور لقب فرید الدین تھا۔ آپ کی ولادت 1173ء بمطابق 589ھ میں ہُوئی اور وصال1265ء بمطابق 666ھ میں ہوا ۔آپ کا خاندانی نام فرید الدین مسعود ہے اور والدہ کا نام قرسم خاتون ؒ اور والدمحترم قاضی جلال الدین ہیں ۔بابا فرید پانچ سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے ۔ آپ بغیر کسی شک و شبہ کے پنجابی ادب کے پہلے اور پنجابی شاعری کی بُنیاد مانے جاتے ہیں۔ آپ کا شمار برصغیر کے مُشہور بزرگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی شمع جلائی اور صرف ایک اللہ کی دُنیا کی پہچان کروائی۔ بابا فرید584/ 1173 میں ملتان کے ایک قصبے کھوتووال میں پیدا ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے آباء کابل کے فرخ شاہ کی اولاد میں سے تھے۔ کہتے ہیں کہ بابا فرید کے والد شیخ شعیب سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے جو شہاب الدین غوری کے زمانے میں ملتان کے قصبہ کھوتووال میں آ کر آباد ہوئے۔بعض روایات کے مطابق ان کے دادا ہجرت کر کے لاہور آئے اور اس کے بعد کچھ وقت قصور میں گزار کر کھوتوال چلے گئے۔ کچھ روایات کے مُطابق آپ کا سلسلہ خلیفہ دوم حضرت عُمربن خطاب کے ساتھ جا ملتا ہے

گنج شکر کی وجہ تسمیہ
آپ کی والدہ ماجدہ قُرسم خاتون نے پہلی بار بابا فریدؒ کو نماز پڑھنے کی تلقین کی تو کچھ اِس طرح سے سمجھایا۔ کہ، جب چھوٹے بچے اللہ تعالیٰ کی نماز ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں شکر کا انعام دیتے ہیں اور جب بڑے ہو جاتے ہیں تو دوسرے بڑے اور مزید انعامات دیئے جاتے ہیں ۔ بابا فرید ؒ جب نمازپڑھتے۔ تو قرسم خاتون چپکے سے انکے مصلے کے نیچے شکر کی پڑیاں رکھ دیتیں اور بابا فرید ؒ وہ شکر کی پڑیاں انعام میں پا کر بہت خوش ہوتے، یہ سلسلہ کافی عرصہ تک چلتا رہا۔ یہاں تک کہ ،، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ قرسم خاتون شکرکی پڑیاں رکھنا بھول گئیں۔ تو اگلے دن اضطراب سے پوچھا کہ اے فرید الدین مسعود کیا آ پکو کل شکر کی پڑیاں مل گئی تھیں ؟ تو بابا فرید نے ہاں میں جواب دیا ! تو قرسم خاتون نے اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا کہ انکی لاج رہ گئی۔ اور اس بات پر خوشی بھی ہوئی کہ اللہ عزوجل کی طرف سے انعام دیا گیا تب انہوں نے بابا فریدؒ سے کہا کہ اے فرید الدین مسعود آپ تو واقعی گنج شکر ہیں۔ 
شاعری
ان کی شاعری میں فارسی، عربی، سنسکرت کے الفاظ ملتے ہیں۔ وہ پنجابی شاعری کے پہلے شاعر ہیں۔
وفات
5 محرم الحرام 1265ء سن عیسوی بمطابق 666ھ 92 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا مزار شہنشاہ محمد بن تغلق نے تعمیر کروایا جو آپ کے مرید تھے انہوں نے خود ہی کہا تھا: کندھی اپر رکھڑا کچرک بنھے دھیر کچے بانڈھے رکھیے کچر تائیں نیر (دیوار پر اگا درخت کب تک حوصلہ مند رہےگا۔ کچے برتن میں کب تک پانی سنبھالا جا سکتا ہے)۔ حضور بابا صاحب نے سخت بے چینی اور تکلیف میں گزارا۔ مگر تمام نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کیں اور تمام وظائف بھی پورے کئے پھر عشاء کی نماز جماعت سے پڑھ کر آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی ۔کچھ دیر کے بعد ہوش آیا تو آپ نے مولانا بدر الدین اسحاق سے پوچھا کے میں نے عشاء کی نماز پڑھ لی ہے۔مولانا بدر الدین اسحاق نے جواب دیا حضور عشاء کی نماز وتر کے ساتھ ادا کر چکے ہیں ۔اس کے بعد آپ پھر بے ہوش ہوگئے جب ہوش آیا تو فرمایا کہ میں دوسری مرتبہ نماز ادا کرو ں گا خدا جانے پھر یہ موقع ملے یا نہ ملے۔مولانا بدر الدین کہتے ہیں کہ اس رات آپ نے تین مرتبہ نماز عشاء ادا کی۔ پھر آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا۔وضو کیا دو گانہ ادا فرمایا پھر سجدے میں چلے گئے اور سجدے میں ہی آہستہ آواز سے یاحیی یا قیوم پڑھتے
Baba Fareed - Best Poetry Collection
Dil o Jan Wich Rehnda e Fasa...
Fareeda jay Toon Aqal Lateef...
Randomly Best Poetry
Wo Tahi Dast Bhi Kiya Khoob ...

Shakist By Karishan Chandar ...

Thi Jahan Mehr o Wafa BeWafa...

Maine Khwabon Ka Shajar Dekh...

Powered By: eVision Development Solutions Visit: www.evdsp.com