لکھیں اور 40404 پر سینڈ کریں۔ پھر اپنا نام لکھ کر 40404 پر سینڈ کریںFollow         Pak488 میں جا کر Write         Message     اردو ادب کے تمام شعرائے کرام کی شاعری کے ایس ایم ایس اپنے موبائل پر مفت حاصل کرنے کے لئے






Jawab e Shikwa

Jawab e Shikwa

Introduction
شکوہ کے جواب میں نظمیں دیکھ کرعلامہ اقبالؒ کو خود بھی دوسری نظم جواب شکوہ لکھنی پڑی جو1913 کے ایک جلسہ عام میں پڑھ کر سنائی گئی۔ انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں شکوہ  پڑھی گئی تو وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت ہوئی یہ بہت مقبول ہوئی لیکن کچھ حضرات  علامہ اقبال سے بدظن ہوگئے اور ان کے نظریے سے اختلاف کیا۔ ان کا خیال تھا کہ شکوہ کا انداز گستاخانہ ہے۔ اس کی تلافی کے لئے اور یوں بھی شکوہ ایک طرح کا سوال تھا جس کا جواب اقبالؒ ہی کے ذمے تھا۔ چنانچہ ڈیڑھ دو سال کے عرصے کے بعد انہوں نے جواب شکوہ لکھی۔ یہ 1913ءکے جلسے میں پڑھی گئی۔ جو نماز مغرب کے بعد بیرونی موچی دروازہ میں منعقد ہوا تھا۔ اقبال نے نظم اس طرح پڑھی کہ ہر طرف سے داد کی بوچھاڑ میں ایک ایک شعر نیلام کیا گیا اور اس سے گراں قدر رقم جمع کرکے بلقان فنڈ میں دی گئی۔ شکوہ کی طرح سے جواب شکوہ کے ترجمے بھی کئی زبانوں میں ملتے ہیں
فکری جائزہ
شکوہ میں اقبال نے انسان کی زبانی بارگاہ ربانی میں زبان شکایت کھولنے کی جرات کی تھی یہ جرات عبارت تھی اس ناز سے جو امت محمدی کے افراد کے دل میں رسول پاک سے عقیدیت کی بناءپر پیدا ہوتی ہے ۔جواب شکوہ درحقیقت شکوہ کا جواب ہے۔ شکوہ میں مسلمانوں کی زبوں حالی بیاں کی گئی تھی اور اس کی وجہ پوچھی گئی تھی پھر وہاں مایوسی اور دل شکستگی کی ایک کیفیت تھی ۔جواب شکوہ اس کیفیت کی توجیہ ہے اور شکوہ میں اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب دیے گئے ہیں ۔ جواب شکوہ میں اسلامی تاریخ کے بعض واقعات اور جنگ بلقان کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں۔ نظم کے موضوعات و مباحث کے مطالعہ سے ہم اسے ذیل کے عنوانات میں تقسیم کرتے ہیں۔
دعوت عمل
 علامہ اقبالؒ مسلمانوں کو دعوت عمل دیتے ہیں ۔ یہ نظم کا آخری حصہ ہے۔اقبال کہتے ہیں کہ اے مسلمانوں ہماری قوت کا راز جذبہ عشق میں مضمر ہے اور اس کا سرچشمہ حضورﷺ   کی ذات گرامی ہے۔ چونکہ اُن کا مرکزی نقطہ عشق رسولﷺ   ہے اس لئے جواب شکوہ کے آخری حصے میں جذبہ عشق سے سرشار وہی والہانہ کیفیت موجود ہے جو حضور کا ذکر کرتے ہوئے اقبال پر عموماً طاری ہوتی تھی۔ موذن رسول حضرت بلالؓ  عشق رسول کا مثالی پیکر تھے اور ان کا تعلق افریقہ کی سرزمین جیش سے تھا اس لئے تذکرہ رسول کے ضمن میں بلالی دنیا   کا ذکر بھی کیاہے۔ آخری بند میں اقبال حق کے لئے جدوجہد کی تلقین کرتے ہیں اے مسلمان ، عقل تیری ڈھال اور عشق تیری تلوار ہے۔
عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش ! خلافت ہے جہانگیر تری
آخر ی شعر کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مسلمان آپﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کریں تو پھر تقدیر بھی ان کے آگے سرنگوں ہوجائے گی۔ اور کائنات ان کے تصرف میں ہوگی۔اقبال نے عمر بھر ایسے لاثانی اشعار لکھے ہیں لیکن یہ شعر اپنی جگہ منفرد ہے۔
کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

فنی تجزیہ
148جواب شکوہ 147 مسدس ترکیب بند کی ہیت میں 32 بندوں پر مشتمل ہے ۔ یہ بحر رمل مثمن مخبون مقطوع میں ہے۔ بحر کے ارکان یہ ہیں۔
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
مجموعی جائزہ
جواب شکوہ میں مسلمانوں کے مذہبی ، روحانی اور اخلاقی انحطاط کے اسباب نہایت دل کش انداز میں بیان کئے گئے ہیں اور مسلمانوں کی شیرازہ بندی کا علاج بھی تجویز کیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے کردار سے رسول پاک کے امتی ہونا ثابت کریں اور ان کے دامن سے وابستہ رہنے کا عزم کریں۔ یہی خداوند تعالٰی تک رسائی کا راز ہے۔
شکوہ کو اگر مذہبی شاعری کی وسواخت کہا جائے تو وسواخت کا خاتمہ عام طور پر محبوب سے صلح صفائی پر ہوتا ہے اس لحاظ سے جواب شکوہ تعلقات کے ازسرنو خوشگوار ہونے اور اعتدال پر آنے کا اعلان ہے۔ 
Jawab e Shikwa - Best Poetry Collection
Peer E Gardoon Ne Kaha Sun K...
Dil Se Jo Baat Nikalti Hay, ...
Thi Farishton Ko Bhi Hairat,...
Iss Qadar Shokh Ke Allah Se ...
Aai Aawaz Ghum-Angaiz Hai Af...
Hum Tau Mayal Ba-Karam Hain,...
Hath Be-Zor Hain, Ilhaad Se ...
Wo Bhi Din They Kay Yehi May...
Kis Qadar Tum Pe Garan Subah...
Jin Ko Ata Nahin Duniya Mein...
Randomly Best Poetry
Yeh Kiya Keh Jahan Ko Karo W...

Ye Hikamat Malkooti, Yeh Ila...

Utha kay Raakh Sey Zarra Sit...

Band Muthi Mein Jugnu By Man...

Powered By: eVision Development Solutions Visit: www.evdsp.com