لکھیں اور 40404 پر سینڈ کریں۔ پھر اپنا نام لکھ کر 40404 پر سینڈ کریںFollow         Pak488 میں جا کر Write         Message     اردو ادب کے تمام شعرائے کرام کی شاعری کے ایس ایم ایس اپنے موبائل پر مفت حاصل کرنے کے لئے






Shikwa

Shikwa

Introduction
شکوہ
یہ وہ شہر آفاق نظم ہے جو اپریل 1911ءکے جلسہ انجمن حمایت اسلام میں پڑھی گئی۔ لندن سے واپسی پر اقبالؒ نے ریواز ہوسٹل کے صحن میں یہ نظم پڑھی ۔ علامہ اقبالؒ نے یہ نظم خلاف معمول تحت اللفظ میں پڑھی۔ مگر انداز بڑا دلا ویز تھا ۔ اس نظم کی جو کاپی اقبال اپنے قلم سے لکھ کر لائے تھے اس کے لئے متعدد اصحاب نے مختلف رقوم پیش کیں اور نواب ذوالفقار علی خان نے ایک سوروپے کی پیشکش کی اور رقم ادا کرکے اصل انجمنِ پنجاب کو دے دی۔ شکوہ  اقبال کے دل کی آواز ہے اس کا موثر ہونا یقینی تھا۔ اس سے اہل دل مسلمان تڑپ اُٹھے اور انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ مسلمانوں کے حوصلہ شکن زوال کے اسباب کیا ہیں۔ آخر اللہ کے وہ بندے جن کی ضرب شمشیر اور نعرہ تکبیر سے بڑے بڑے قہار و جبار سلاطین کے دل لرز جاتے تھے کیوں اس ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے؟ ۔ یہ نظم دراصل مسلمانوں کے بے عملی ، مذہب سے غفلت اور بیزاری پر طنز ہے۔ بانگ درا میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں کئی مقامات پر تبدیلی کی۔ جبکہ بانگ درا میں اشاعت سے پہلے نظم مختلف رسالوں مثلاً مخزن، تمدن اور ادیب میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہو چکے ہیں۔
فنی جائزہ
شکوہ 31 بندوں پر مشتمل ہے یہ نظم مسدس کی ہیت میں لکھی گئی ہے۔ بحر کا نام بحر رمل مثمن مخبون محذوف ہے۔ بحر کے ارکان یہ ہیں۔
فَاعِلَا تُن فَعِلا تُن فَعِلا تُن فَعِلُن
اقبال کی طویل نظم میں شکوہ  فنی لحاظ سے ایک منفردمقام کی حامل ہے۔ یہی پہلی طویل نظم ہے جس میں اقبال نے اسلام کی زندہ اور فعالی قوتوں ، ماضی کے مسلمانوں کی عظمت اوج کے بعد ان کی موجودہ زبوں حالی کی داستان کو ایک ساتھ نہایت فنکارانہ انداز میں بیان کیا ہے ۔ اردو شاعری میں ایسا اندازِ بیاں کہیں نہیں ملتا۔
لہجے کا تنوع
کسی برگزیدہ اور برتر ہستی کے سامنے شکو ہ کرنے والا اپنی مفروضات پیش کرتے ہوئے حسبِ ضرورت مختلف انداز اختیار کرتا ہے۔ چنانچہ اقبال کے شکو ے کا لہجہ بھی متنوع ہے اورعلامہ  اقبالؒ کا شکوہ اللہ جیسی بڑی ہستی سے ہے جو تمام دنیا کا مالک ہے۔ اسی لئے اقبال کے لہجے میں کہیں عجز و نیاز مندی ہے کہیں غیرت و انا کا احساس ہے کہیں تندی و تلخی ہے اور جوش ہے کہیں تاسف و مایوسی کا لہجہ ہے اور کہیں گریہ و زاری و دعا کا انداز اختیار کیا ہے
مجموعی جائزہ
علامہ اقبالؒ نے شکوہ میں ایسا انداز اختیار کیا ہے جس میں مسلمانوں کے عظیم الشان ، حوصلہ افزا اور زندہ جاوید کارنامے پیش کئے گئے۔ لہٰذا اس نظم کے پڑھنے سے حوصلہ بلند ہوتا ہے قوت عمل میں تازگی آتی ہے۔ جو ش و ہمت کو تقویت پہنچتی ہے۔ عظیم الشان کارنامے اس حسن ترتیب سے جمع کر دئیے گئے ہیں کہ موجودہ پست حالی کے بجائے صرف عظمت و برتری ہی سامنے رہتی ہے۔ گویا یہ شکوہ بھی ہے اور ساتھ ہی بہترین دعوت عمل بھی۔ اس لحاظ سے اردو زبان میں یہ اپنی نوعیت کی بالکل یگانہ نظم ہے۔بقول تاثیرشکوہ لکھا گیا تو اس انداز پر سینکڑوں نظمیں لکھی گئیں ملائوں نے تکفیر کے فتوے لگائے اور شاعروں نے شکوہ کے جواب لکھے لیکن شکوہ کا درست جواب خود اقبال ہی نے دیا۔
Shikwa - Best Poetry Collection
Kiyun Ziyaan Kaar Banun, Soo...
Hai Baja Shewa E Tasleem Mei...
Thi To Maujood Azal Se Hi Te...
Hum Sey Pehley Tha Ajab Tere...
Bas Rahe The Yahin Saljuq Bh...
They Hamein Aik Terey Maarka...
Hum Jo Jeete The To Jnagon K...
Naqsh Tauheed Ka Har Dil Pe ...
Tu Hi Keh De Ke Ukhara Dar E...
Kon Si Qoum Faqat Teri Talab...
Randomly Best Poetry
Kahin Jaye Ussay Meri Duain ...

Mera hai Kon Dushman Meri Ch...

Aye Ishq By Nazia Kanwal Naz...

Ghalat Fehmi Ki Barfeeli Haw...

Powered By: eVision Development Solutions Visit: www.evdsp.com